اٹارنی جنرل نے عمران خان کی جان کو خطرے سے متعلق سپریم کورٹ کو بتا دی

اٹارنی جنرل نے عمران خان کی جان کو خطرے سے متعلق سپریم کورٹ کو بتا دی

اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق عمران خان پر خودکش حملے کا خطرہ ہے۔ سپریم کورٹ میں لانگ مارچ کو روکنے کیلئے راستوں کی بندش اور چھاپوں کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی ، اس دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ جی اٹارنی جنرل بتائیں کیا ہدایات لی ہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے سری نگر ہائی وے پر دھرنے کی اجازت مانگی ، سیکیورٹی صورتحال کے باعث سری نگر ہائی وے کی اجازت نہیں دی گئی ، سیکیورٹی اداروں نےعمران خان پر خود کش حملہ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
دورانِ سماعت اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے، حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق عمران خان پر خودکش حملے کا خطرہ ہے۔

اٹارنی جنرل کے موقف پر جسٹس اعجاز نے کہا کہ آپ اصل ایشو سے دور جا رہے ہیں۔ اس موقع پر سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف کمشنر اسلام آباد متبادل پلان پیش کریں ، جلسے کیلئے ڈھائی بجے تک متبادل جگہ کا بتایا جائے ، پی ٹی آئی یقینی بنائے کہ جلسے سے عوامی حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔

ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت سے گرفتار پی ٹی آئی کے 70 افراد کو چھوڑنے کا حکم دے دیا ، اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کارکنان کو پولیس کی جانب سے ہراساں کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا اور کہا کہ ڈپٹی کمشنر پیش ہو کر بتائیں کیوں کارکنان کو غیر ضروری ہراساں کیا جارہا ہے ، ڈپٹی کمشنر کی پیشی پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو وفاقی دارالحکومت سے پی ٹی آئی کے حراست میں لیے 70 افراد کو بانڈ لے کر چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر کسی کے خلاف کوئی کیس ہو تو اس عدالت کو کل بتائیں اور اس کر نظرثانی کریں۔

What's Your Reaction?

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow